Urdu Shayari Bewafa Pyar 2 Lines | Bewafa Poetry

Bewafa Poetry




Bewafa Poetry



تو نے طاق میں رکھ کر محبت میری
بے وفائی چنی تو اس میں کیا نیا کیا



وفاؤں کے کناروں کی امید پر نہ بیٹھ جانا
بے وفائی کا دریا جب بہتا ہے تو کنارے والے بھی ڈوب جاتے ہیں





کبھی تو پڑھنے آؤ مری آنکھوں کو بے وفا
شاعری نہیں تیرے دئیے ہوۓ درد لکھتا ہوں


ہم نہیں کرتے توبہ عشق سے عشق تو ہمارا پیشہ ہے
وہ عشق ہی کیا جس میں یار بے وفا نہ ہو




جب تک نہ لگے بے وفائی کی ٹھوکر
ہر کسی کو اپنی محبت پہ ناز ہوتا ہے






اندازِ عشق بھی کیا خوب تھا اس بے وفا کا
ہزاروں درد دے گیا ہمیں جان کہتے کہتے


ہاۓ لوگ بے وفائی پر چھوڑتے ہیں
اس نے میری محبت کی شدت دیکھ کر چھوڑا




اِک بے وفا کے پیار میں حد سے گزر گئے
کافر کے پیار نے ہمیں کافر بنا دیا






کتنا بے وفا ہے مُرشد مطلبی تھا وہ ایک شخص
دل جلانے کے لیے دل لگانے پر مجبور کیا ہمکو




زندگی نادان تھی جو وفا تلاش کرتی رہی
یہ بھی نہ سوچا کہ اِک دن اپنی بھی سانس بے وفا بن جائے گی



اگر تیرنا ہے تو سمندر میں آ کناروں میں کیا رکھا ہے
محبت کرنی ہے تو وطن سے کر بے وفا دنیا میں کیا رکھا ہے



اسے کہنا ہم ازل سے اکیلے رہتے ہیں
تم نے چھوڑ کر کوئی کمال نہیں کیا



ہزاروں ملیں گے زندگی کی بھیڑ میں
ہم سے بہتر مل جائے تو ناز کرنا اپنی قسمت پر



رہتے ہیں مصروف کرتے ہیں بہانے بتاتے ہیں مجبوریاں مُرشد
یہ لوگ صاف الفاظ میں خود کو بے وفا کیوں نہیں کہتے




بکھر گیا ہوں بے وفا لوگوں کو اپنا بنا کر
اے موت آ جا اب تیرا انتظار رہتا ہے مجھے



Jao bhi kiya karoge mehr o wafa
Bar_ha aazma k dekh liya

جاؤ بھی کیا کرو گے مہر و وفا
بارہا آزما کے دیکھ لیا 


Ye kia keh tumne jafa se bhi haath kheench liya

Meri wafaon ka kuch to sila diya hota

یہ کیا کہ تم نے جفا سے بھی ہاتھ کھینچ لیا
میری وفاؤں کا کچھ تو صلہ دیا ہوتا 


Nahin shikwa mujhy kuch bewafai ka teri hargiz
Gila tab ho agar tu ne kesi se bhi nibhai ho


نہیں شکوہ مجھے کچھ بے وفائی کا تری ہرگز
گلا تب ہو اگر تو نے کسی سے بھی نبھائی ہو

Read Also Bewafa Poetry

Tum kesi k bhi ho nahin sakte
Tumko apna bana k dekh liya

تم کسی کے بھی ہو نہیں سکتے
تم کو اپنا بنا کے دیکھ لیا 

Kaam a sakin na apni wafaen to kiya karen
Us bewafa ko bhool na jaaen to kiya karen

کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں
اس بے وفا کو بھول نہ جائیں تو کیا کریں



نبھانے والوں کے حصے میں بس خسارہ ہیں
وہ بے وفا ہے چلو فائدہ اٹھا لے گا

میں اُس گھڑی تجھے شِدت سے یاد آؤں گا
جہاں سارا تو جس روز آزما لے گا۔




وہ بے وفا ہیں تو کیا مت کہو برا اُسکو
کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اُسکو

نظر نہ آئے تو اسکی تلاش میں رہنا
کہیں ملے تو پلٹ کر نہ دیکھنا اسے




اشکِ رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو
اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو

یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد
تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو

لائی ہے اب اڑا کے گئے موسموں کی باس
برکھا کی رُت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو

پھرتے ہیں مثلِ موج ہوا شہر شہر میں
آوارگی کی لہر ہے اور ہم ہیں دوستو

شامِ الم ڈھلی تو چلی درد کی ہوا
راتوں کا پچھلا پہر ہے اور ہم ہیں دوستو

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لُٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو
(منیر نیازی)