Khalil Ur Rehman Qamar Poetry
Khalil Ur Rehman Kon Hai janany K liye Wikipedia web pr ja kr dekh sakty hain.
![]() |
| khalil ur rehman qamar poetry |
اپنی آنکھوں میں قمر جھانک کر دیکھوں کیسے
مجھ سے دیکھے ہوئے منظر نہیں دیکھے جاتے
جب بھی تم سے ملتے ہیں ہم
تم ہوتے ہو ہم نہیں ہوتے
بچھڑے رہتے ہیں ہم خود سے
ہوتے ہیں ہر دم نہیں ہوتے
محبت کی دُوری وفاؤں کے دھاگے
اگر ٹوٹ جائیں تو جڑتے نہیں ہیں
تیرے نام پر نفرت لکھ کر
تیرا نام مٹا ڈالیں گے
محبت میں اگر اُمید نہ رہے تو محبت لا علاج مریض کی طرح
طبیب کی آنکھوں کے سامنے دم توڑ دیتی ہے
تم سے بچھڑا ہوں تو رُویا ہوں ورنہ کل تک
رونے والوں کو بھی فنکار کہا کرتا تھا
سوچتا ہوں جسے چاند کہا تھا میں نے
وہ کسی اور کے آنگن میں نکلتا کیوں ہے
کسی نے پائی ہے تیرے قُرب سے دنیاِ حیات
وہ تیری یاد کے موسم میں اکیلا کیوں ہے
سمجھ سکے گا وہ کیا عشق کی کبھی وسعت
کہ سوچ جس کی ابھی ایک دائرے تک ہے
جہاں محبت ہوتی ہے وہاں شک نہیں ہوتا
اور جہاں شک ہوتا ہے وہاں محبت نہیں ہوتی
وقت کو تب میں تیری رفتار کہا کرتا تھا
جب تیرے پیار کو ہی پیار کہا کرتا تھا
بھول جانے کا ہنر مجھکو سکھاتے جاؤ جا رہے ہو
تو سبھی نقش مٹاتے جاؤ چلو رسمن ہی سہی مڑ کے مجھے دیکھ تو لو
لوگ کسی پہ مر تو جاتے ہیں لیکن کسی کے لئے مرتے نہیں ہیں
جو سچے دل سے محبت کرتے ہیں انہیں کوئی دوسرا دکھائی نہیں دیتا
کون چاہے گا محبت کی تباہی لیکن
تم جو چاہو تو خدا اس کو بھی برباد کرے
میں کوئی پاگل ہوں جو ایک بے وقوف لڑکی کے آگے اپنے باپ کی ساری کمائی ہار جاؤں
مجھ سے دامن نہ چھوڑا مجھ کو بچا کر رکھ لے
مجھ سے اک روز تجھے محبت بھی ہو سکتی ہے
خواب پلکوں کی ہتھیلی پہ چُنے رہتے ہیںکون جانے وہ کبھی نیند چُرانے آئےمجھ پہ اُترے میرے الہام کی بارش بن کرمجھ کو اِک بوند سمندر میں چُھپانے آئےجب میں سنوروں تو وہ گُلنار کرے میرا تبسمجب میں ہنس دوں تو وہ غُنچہ سہ چٹخنہ چاہےجب میں تنہا ہوں میرا ہاتھ پکڑ لے آ کرجب میں چپ ہوں تو وہ بادل سہ برسنا چاہےمیری برسوں کی اداسی کو صِلہ کچھ تو ملےاس سے کہہ دو وہ میرا قرض چُکانے آئےوہ میرے کانپتے ہونٹوں کی صدائیں سن لےیا میرے ضبط کو اظہار کا لہجہ دیدےیا مجھے توڑ دے اِک گہری نظر سے چُھو کریا مجھے چوم کے تخلیق کو سانچا دیدےمیری ترتیب اُٹھا جائے خدا کی ماننداور مٹ جاؤں تو پھر مجھ کو بنانے آئےخواب پلکوں کی ہتھیلی پہ چُنے رہتے ہیںکون جانے وہ کبھی نیند چُرانے آئے
مرد ایک اٹل فطرت کا نام ہے خود کتنا ہی بیوفا کیوں نہ ہو بے وفائی معاف نہیں کرتا
میں جب اپنے خدا سے ملوں گا یہ پوچھوں گا
کُن جب پہلی بار کہا تھا
کونسا لفظ ایجاد کیا تھا
دیکھنا اس دن ثابت ہوگا پہلا لفظ محبت ہوگا ( خلیل الرحمان قمر)
خلافِ شرطِ اَنا تھا وہ خواب میں بھی ملے
میں نیند نیند کو ترسا مگر نہیں سویا
خلافِ موسمِ دل تھا کہ تھم گئی بارش
خلافِ حرمتِ غم ہے کہ میں نہیں رُویا
مطلب یہ کہ بھولا نہیں ہوں یہ بھی نہیں کہ یاد آتے ہو
پہلے سب سے پہلے تم تھے اب تم سب کے بعد آتے ہو
بچھڑ گئے تو مُوج اُڑانا واپس میرے پاس نہ آنا
جب کوئی جا کر واپس آئے تڑپے روئے یا پچھتاۓ
میں پھر اس کو ملتا نہیں ہوں ساتھ دوبارہ چلتا نہیں ہوں
گُم جاتا ہوں کھو جاتا ہوں میں پتھر کا ہو جاتا ہوں
اشکِ ناداں سے کہو بعد میں پچھتائیں گے
آپ گِر کر میری آنکھوں سے کدھر جائیں گے
اپنے لفظوں کو تکلُم سے گِرا کر جانا
اپنے لہجے کی تھکاوٹ میں بِکھر جائیں گے
تم سے لے جائیں گے ہم چھین کے وعدے اپنے
ہم تو قسموں کی صداقت سے بھی ڈر جائیں گے
اِک تیرا گھر تھا میری حدِ مُسافت لیکن
اب یہ سوچا ہے کہ ہم حد سے گُزر جائیں گے
اپنے افکار جلا ڈالیں گے کاغذ کاغذ
سوچ مر جائے گی تو ہم آپ بھی مر جائیں گے
اس سے پہلے کہ جدائی کی خبر تم سے ملے
ہم نے سوچا ہے کہ ہم تُم سے بچھڑ جائیں گے
خلیل الرحمن قمر
یاد ہے پہلے روز کہا تھا پھر نہ کہنا غلطی دل کیپیار سمجھ کے کرنا لڑکی پیار نبھانا ہوتا ہےپھر پار لگانا ہوتا ہےیاد ہے پہلے روز کہا تھاساتھ چلو تو پورے سفر تک مر جانے کی اگلی خبر تکسمجھو یار خدا تک ہوگا سارا پیار وفا تک ہوگاپھر یہ بندھن توڑ نہ جانا چھوڑ گئے تو پھر نہ آناچھوڑ دیا جو تیرا نہیں ہے چلا گیا جو میرا نہیں ہےیاد ہے پہلے روز کہا تھایا تو ٹوٹ کے پیار نہ کرنا یا پھر پیٹھ پہ وار نہ کرناجب نادانی ہو جاتی ہے نئی کہانی ہو جاتی ہےنئی کہانی لکھ لاؤں گا اگلے روز میں بِک جاؤں گاتیرے گُل جب کھل جائیں گے مجھ کو پیسے مل جائیں گےیاد ہے پہلے روز کہا تھابچھڑ گئے تو موج اُڑانا واپس میرے پاس نہ آناجب کوئی جاکر واپس آئے روئے تڑپے یا پچھتاےمیں پھر اس کو ملتا نہیں ہوں ساتھ دوبارہ چلتا نہیں ہوںگُم جاتا ہوں کھو جاتا ہوں میں پتھر کا ہو جاتا ہوںیاد ہے پہلے روز کہا تھاخلیل الرحمن قمر
سورتِ حسنِ مقافات نظر آئی ہے
زندگی اب تیری اوقات نظر آئی ہے
اب کہاں ہیں وہ تیری بدمعاشیاں بولو
جب تجھے دن میں تیری رات نظر آئی ہے
کتابِ ظرفِ محبت پہ ہاتھ رکھ کے کہو
سوال جان کا آیا تو وار جائیں گے





